واشنگٹن پوسٹ نے 300 سے زائد صحافیوں کو فارغ کر دیا، امریکی اور عالمی صحافت کے لیے تاریخی اور تاریک دن

0

امریکی میڈیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کو نوکری سے نکالے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے 300 سے زائد صحافیوں اور عملے کے ارکان کو فارغ کر دیا ہے۔ یہ تعداد اخبار کے ایڈیٹوریل اسٹاف کے ایک تہائی سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے، جسے نہ صرف واشنگٹن پوسٹ بلکہ عالمی صحافت کے لیے بھی ایک انتہائی تشویشناک اور تاریک دن قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نوکری سے نکالے جانے والوں میں زیادہ تر بین الاقوامی بیوروز، مقامی رپورٹرز، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور بزنس رپورٹس سے وابستہ صحافی شامل ہیں۔ اس اچانک فیصلے پر متعدد سینئر صحافیوں اور ایڈیٹرز نے سوشل میڈیا پر شدید صدمے، دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے معروف سینئر انٹرنیشنل افیئرز کالم نگار ایشیان تھرور بھی فارغ کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ ایشیان تھرور نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ اس فیصلے سے دل شکستہ ہیں اور اپنے ساتھی صحافیوں کے لیے شدید افسوس محسوس کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایشیان تھرور معروف بھارتی مصنف اور سیاست دان ششی تھرور کے صاحبزادے ہیں۔

یوکرین سے رپورٹنگ کرنے والی صحافی لیزی جانسن نے انکشاف کیا کہ انہیں جنگ زدہ علاقے میں فرائض کی انجام دہی کے دوران فارغ کیا گیا، جس پر انہوں نے گہرے دکھ اور دلبرداشتگی کا اظہار کیا۔ اسی طرح نیوز ڈیسک کے دیگر اہم ارکان، جن میں نیو دہلی بیورو چیف پرانشو ورما بھی شامل ہیں، نے اس فیصلے کو ادارے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بارون نے اس اقدام کو “دنیا کے عظیم ترین نیوز اداروں میں سے ایک کی تاریخ کے سب سے تاریک دنوں میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں عوام مقامی اور عالمی سطح پر معیاری، تفصیلی اور مستند صحافت سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے اخبار کے مالک جیف بیزوس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلوں نے قارئین کے اعتماد کو مجروح کیا اور سینئر صحافیوں کو ادارے سے دور کر دیا، جس سے واشنگٹن پوسٹ کے برانڈ کو شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹس کے مطابق فارغ کیے جانے والے زیادہ تر صحافی بین الاقوامی رپورٹس سے وابستہ تھے، جو واشنگٹن پوسٹ کی عالمی شہرت یافتہ کوریج کا بنیادی ستون سمجھے جاتے تھے۔ اس بڑے پیمانے پر برطرفیوں نے عالمی صحافت میں زمینی حقائق پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ فارغ ہونے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ قارئین اب وہ گہرائی اور معیار نہیں پا سکیں گے جو واشنگٹن پوسٹ کی شناخت رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.