طارق رحمان بنگلا دیش کے وزیر اعظم منتخب، کھلے آسمان تلے حلف برداری
بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے عام انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد بنگلا دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
روایتی طریقۂ کار کے برعکس حلف برداری کی تقریب صدارتی محل کے بجائے قومی پارلیمنٹ کی عمارت کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔ بنگلا دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے نو منتخب وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔ تقریب میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام، سفارت کاروں اور چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
60 سالہ طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے اور مقتول صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے ہیں۔ وہ تقریباً 17 سال جلاوطنی کے بعد گزشتہ برس وطن واپس آئے تھے اور ان کی واپسی کو بی این پی کی انتخابی مہم میں فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔
2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی تھی جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کر رہے تھے۔ اسی عبوری دور کے بعد حالیہ عام انتخابات منعقد ہوئے۔
انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے 2013 کی پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی بار حصہ لیا اور 68 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے باعث انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم طارق رحمان نے امن و امان کی بحالی کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے سامنے سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور گارمنٹس سمیت اہم برآمدی صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنا بڑے چیلنجز ہوں گے۔