ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے لیکن خود بہانے بناتی ہے، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے فیڈرل سروس ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل زائد المیعاد قرار دے کر خارج کردی۔ تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کردی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کو بھی عدالت میں عام آدمی والا پروٹوکول ہی ملے گا۔ حکومت کوئی انوکھی سائل نہیں، عام شہری کی طرح قانون ماننا پڑے گا۔ جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے کے مطابق ریاست اپنی نااہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی۔ بیوروکریسی کی سُستی کی سزا دوسرے فریق کو نہیں دی جا سکتی۔ ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے لیکن خود بہانے بناتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ دفتری رولز یا انتظامی مشکل وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہوسکتے، حکومت کے مطابق افسر کے تبادلے کی وجہ سے فائلیں دفتر میں ہی رہیں، حکومت کے مطابق فائلیں دفتر میں ہونے کی وجہ سے اپیل دائر کرنے میں دیر ہوئی۔
تحریری فیصلے کے مطابق سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے، قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہیے۔ وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت کے 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی۔