امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے
واشنگٹن — امریکی سپریم کورٹ نے صدر Donald Trump کے گزشتہ سال نافذ کیے گئے اضافی عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم کر دیا ہے۔
6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ صدر نے قومی ایمرجنسی سے متعلق قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس John Roberts نے تحریر کیا۔
عدالت کے مطابق متعلقہ قانون صدر کو اس پیمانے، مدت اور دائرہ کار کے ساتھ ٹیرف نافذ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ “لا محدود نوعیت کے تجارتی اقدامات کے لیے واضح قانونی بنیاد ضروری ہے”، جبکہ استعمال کیا گیا ہنگامی اختیار اس سطح کی طاقت کے لیے ناکافی تھا۔
تجارتی پالیسی کو بڑا دھچکا
فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع تجارتی اقدامات مؤثر طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ یہ ٹیرف چین، بھارت، پاکستان، برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر عائد کیے گئے تھے اور ٹرمپ کے معاشی و خارجہ ایجنڈے کا مرکزی حصہ تھے۔
معاشی ماہرین کے مطابق فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں اور یہ ایک نئی آئینی حد متعین کرتا ہے کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کس حد تک اقتصادی پالیسیاں نافذ کر سکتے ہیں۔
ممکنہ قانونی اور مالی اثرات
عدالت نے اس بات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا کہ 14 دسمبر تک وصول کیے گئے تقریباً 134 ارب ڈالر کے ٹیرف کا کیا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نچلی عدالتوں میں زیر بحث آ سکتا ہے اور حکومت کو ری فنڈ کے دعووں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فیصلے سے قبل صدر ٹرمپ خبردار کر چکے تھے کہ اگر ٹیرف غیر قانونی قرار دیے گئے تو امریکا کے لیے بھاری مالی اثرات ہوں گے۔ ان کا باضابطہ ردِعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔
آئندہ کا لائحہ عمل
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف بحال رکھنے کے لیے کانگریس سے قانون سازی کرانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اس فیصلے کو ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں ایک بڑا سیاسی اور معاشی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔