اسرائیل مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ امریکی سفیر مائیک ہکابی

US Ambassador Mike Huckabee

اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی کے ایک متنازع بیان نے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

ایک انٹرویو میں امریکی سفیر نے دعویٰ کیا کہ یہ زمین خدا کی طرف سے اسرائیلیوں کو دی گئی ہے اور اگر اسرائیل دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو اسے قابلِ قبول سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان، شام اور اردن جیسے ممالک پر اسرائیلی کنٹرول کے تصور پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم سے متعلق خدشات عالمی سطح پر زیرِ بحث ہیں۔ “نیل سے فرات تک” کا تصور دراصل ایک جغرافیائی اصطلاح ہے جسے بعض حلقوں میں “گریٹر اسرائیل” کے شدت پسند نظریے سے جوڑا جاتا ہے، جس میں لبنان سے سعودی عرب کے صحراؤں تک اور بحیرۂ روم سے عراق کے دریائے فرات تک کے علاقوں کو ایک تصوراتی خطے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مائیک ہکابی کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر مقرر کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے بیانات خطے میں سفارتی تناؤ بڑھا سکتے ہیں اور عرب ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ملک کی علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنا انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے