بنگلادیشی فوج میں اعلیٰ سطحی تقرریاں، عسکری و سفارتی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں
بنگلادیش کی مسلح افواج میں اعلیٰ سطح پر قیادت میں بڑی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں، جنہیں ملکی سکیورٹی اور پالیسی ڈھانچے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد معین الرحمٰن کو بنگلادیش آرمی کا چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کر دیا گیا ہے، جو فوج کے آپریشنل اور اسٹریٹجک امور میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح میجر جنرل قیصر رشید چوہدری کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے، جو ملک کا اہم عسکری انٹیلی جنس ادارہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل میر مشفق الرحمٰن کو آرمڈ فورسز ڈویژن کا پرنسپل اسٹاف آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق پی ایس او لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن کو وزارت خارجہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو سفارتی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے وزارت خارجہ میں تعینات کیا گیا ہے، جو فوج اور خارجہ پالیسی کے درمیان ہم آہنگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے 209 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی بنگلادیش 77 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں آ گئی۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے، جس کے بعد ملک میں سول و عسکری قیادت کے درمیان نئے توازن پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عسکری قیادت میں یہ تقرریاں نئی حکومت کے تحت سکیورٹی ترجیحات، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور خارجہ محاذ پر پالیسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔