امریکا کے 150 جنگی طیارے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ منتقل
امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا نے اپنے تقریباً 150 جنگی طیارے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اڈوں پر منتقل کر دیے ہیں، جن میں سے آدھے سے زیادہ طیارے یورپ میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
دفاعی ذرائع کے مطابق اس بڑے پیمانے پر فضائی نقل و حرکت کو خطے میں امریکی فوجی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ طور پر اس تعیناتی کو معمول کی اسٹریٹجک ری پوزیشننگ کہا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر پیش رفت بھی جاری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کا موقع موجود ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان باہمی خدشات کے حل کے لیے غیر معمولی ڈیل ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے اور معاہدہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں متوقع ہے، اس سے قبل مسقط اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکراتی ادوار کو مثبت قرار دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ اور دوسری جانب جاری مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری تیاری دونوں بیک وقت جاری ہیں۔