2025 میں 129 صحافی ہلاک، دو تہائی اسرائیل کی فائرنگ میں مارے گئے، سی پی جے رپورٹ
واشنگٹن – صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (CPJ) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال 129 صحافی اور میڈیا ورکرز اپنے کام کے دوران ہلاک ہوئے، جن میں سے تقریباً دو تہائی اسرائیل کی فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں اسرائیلی فائرنگ سے 86 صحافی ہلاک ہوئے، زیادہ تر غزہ میں فلسطینی صحافی تھے، جبکہ یمن میں حوثی میڈیا سینٹر پر حملے میں 31 کارکن بھی ہلاک ہوئے۔ CPJ نے اسرائیل کی کارروائی کو اب تک کی سب سے مہلک ٹارگٹ کلنگ قرار دیا، اور کہا کہ یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر کم ہیں کیونکہ غزہ میں رسائی کی پابندیوں کی وجہ سے مکمل تصدیق مشکل ہے۔
اسرائیل نے متعدد مواقع پر صحافیوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد حماس کے ساتھ روابط رکھتے تھے، تاہم بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ تین دہائیوں میں کسی بھی حکومت کی فوج کے مقابلے میں سب سے زیادہ پریس ٹارگٹ کلنگ کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے 129 صحافیوں میں سے کم از کم 104 کا تعلق تنازعات سے تھا۔ غزہ اور یمن کے علاوہ صحافیوں کے لیے مہلک ترین ممالک میں سوڈان (نو ہلاکتیں)، میکسیکو (چھ ہلاکتیں)، یوکرائن (چار ہلاکتیں) اور فلپائن (تین ہلاکتیں) شامل ہیں۔
اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں میں رائٹرز کے صحافی حسام المصری بھی شامل تھے، جو اگست میں غزہ کے ناصر ہسپتال سے لائیو ویڈیو فیڈ کر رہے تھے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حملے کو "افسوسناک حادثہ” قرار دیا تھا، تاہم رائٹرز کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ نشانہ بنایا گیا کیمرہ دراصل رائٹرز کا تھا۔
اس رپورٹ سے عالمی صحافتی کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔