امریکہ نے ایران کے 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی وزارت خزانہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے ایران سے متعلق 30 سے زائد افراد، اداروں اور تیل بردار بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ اقدامات ایران کی غیر قانونی تیل کی فروخت، آمدنی کی منی لانڈرنگ، بیلسٹک میزائل پروگراموں اور جدید روایتی ہتھیاروں (ACW) کی مدد میں کردار ادا کرنے پر کیے گئے ہیں۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق یہ بحری جہاز ایران کے "شیڈو فلیٹ” کے تحت کام کرتے ہیں، جو غیر قانونی طور پر تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے اور حکومت کی اندرونی اور علاقائی سرگرمیوں کے لیے فنڈز مہیا کرتا ہے۔ ان جہازوں اور نیٹ ورکس نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور وزارت دفاع کو بیلسٹک میزائل اور جدید ہتھیاروں کے خام مال اور حساس آلات فراہم کرنے میں مدد کی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران اپنے مالیاتی نظام کا استحصال کر کے غیر قانونی تیل کی فروخت، آمدنی کی منی لانڈرنگ اور دہشت گرد نمائندوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، اور واشنگٹن ایران کی اسلحہ سازی اور دہشت گردی کی حمایت کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا جاری رکھے گا۔
یہ پابندیاں صدر کے نیشنل سیکورٹی میمورنڈم نمبر 2 (NSPM-2) کے تحت عائد کی گئی ہیں، جو شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس، منی لانڈرنگ اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کے خلاف اقتصادی دباؤ کی مہم کی حمایت کرتا ہے۔
12 بحری جہازوں اور ان کے مالکان یا آپریٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں HOOT، OCEAN KOI، NORTH STAR، FELICITA، ATEELA 1 اور ATEELA 2، NIBA، LUMA، REMIZ، DANUTA I، ALAA اور GAS FATE شامل ہیں۔ ان بحری جہازوں نے سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات منتقل کیے ہیں۔
یہ اقدام ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی مہم کے تسلسل کی تصدیق ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کے تیسرے دور کی بھی توقع ہے۔ امریکی وفد میں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے، جب کہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔
تجزیہ کار ٹونی سیکامور کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران اور چین نے اینٹی شپ کروز میزائلوں کی خریداری کے مذاکرات تیز کر دیے ہیں، جو ایرانی ساحل کے قریب امریکی بحری افواج کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔