ٹوکیو – بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (International Monetary Fund) کی سربراہ Kristalina Georgieva نے جاپان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی معیشت کے لیے سنگین امتحان ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا کہ جنگ کے دوران تیل اور گیس کی اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی جہاز رانی تقریباً 90 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی تیل کی تقریباً 60 فیصد اور ایل این جی کی 11 فیصد درآمدات اسی پانی کے راستے سے ہوتی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی پر شدید اثر پڑ رہا ہے۔
آئی ایم ایف سربراہ نے مزید کہا کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو عالمی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہوں گے، اور پہلے ہی تیل کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ان کے مطابق عالمی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کی مشکلات دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہیں، جس پر فوری اور مربوط عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔
