سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں شک کا ایک پہلو بھی موجود ہو تو ملزم بریت کا حقدار ہو جاتا ہے۔ بیٹے کے قتل کےمقدمے میں باپ کو اسی اصول پر بری بھی کر دیا گیا۔
عدالت نے مبینہ طور پر بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے مقدمے میں ملزم والد سلطان عرف ببو جتوئی کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی ۔ ہائیکورٹ نے بھی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی ۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ کہا گیا کہ فوجداری قانون کے اصول کے مطابق شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حقدار بنا دیتا ہے ۔ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ باپ اپنے ہی بیٹے کو قتل کیوں کرنا چاہتا تھا۔
ایک باپ کا اپنے کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت اور رویئے کے خلاف ہے۔ گھرمیں کپاس کی فصل کیلئے کیڑے مار ادویات موجود تھیں جو بچہ خود بھی پی سکتا تھا ۔ میڈیکل رپورٹ کےمطابق 4 سال کا بچہ زہریلی اور پینےوالی چیزمیں تمیزنہیں کرسکتا ۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات میں تضادات اور ان کی موقع پر موجودگی بھی مشکوک ہے ۔ 2019 میں سکھر میں چار سالہ مدثر عرف مٹھو کی مبینہ طور پر زہر کھانے سے موت ہوئی تھی ۔ جس پر بچے کے ماموں نے اس کے والد کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔
