خیبرپختونخوا کابینہ کے اجلاس میں بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، اجلاس میں صوبے میں دو ماہ کے لیے فیول بچت اقدامات نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات پر سرکاری محکموں میں تمام میٹنگز کو سو فیصد ورچوئل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
کابینہ نےسرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں مزید 25 فیصد کمی کی منظوری بھی دے دی،حکام کے مطابق اس سے پہلے کووڈ اقدامات کےدوران بھی 25 فیصد کٹوتی نافذ تھی،جس کے بعد اب مجموعی کمی 50 فیصد ہو جائے گی۔
صوبائی حکومت کےمطابق پولیس، ریسکیو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فیول کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہےتاکہ ان کی آپریشنل سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی متعارف کرائی جائے گی،جبکہ وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر کے غیر ضروری استعمال میں نمایاں کمی کی جائے گی۔
کابینہ نے سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری کے لیے غیرضروری تقریبات اور سرکاری ڈنرز پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی کیا ہے،اس کے علاوہ جمعہ کے روز تعلیمی ادارے بند رکھنے کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔
صوبائی حکومت نے پیٹرول پمپس کی روزانہ مانیٹرنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے،جبکہ کسانوں اور گندم کی کٹائی کے لیے ڈیزل کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ اجلاس سےخطاب میں کہا توانائی بحران اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سےعوام کوبچاناحکومت کی ذمہ داری ہے،مشکل حالات میں سب سےپہلے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اپنی مراعات کم کرنی چاہیے،پروٹوکول اورسرکاری اخراجات میں کمی لا کر عوام کو ریلیف دیا جانا چاہیے،
مزیدکہاپاکستان میں ہمیشہ قربانی کے وقت عوام کو نشانہ بنایاجاتا ہے،یہ رویہ تبدیل ہوناچاہیے، بانی چیئرمین کےدورمیں کووڈ عالمی وبا کے باوجودعوام اورکاروبارکوریلیف دیاگیا،خیبرپختو نخوا حکومت ہر اس فیصلے کی مخالفت کرے گی جو عوام پر بوجھ ڈالے۔
