کینبرا – Australia نے ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کرتے ہوئے ملک میں قیام کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان کھلاڑیوں کی وطن واپسی کے بعد سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
آسٹریلوی وزیر داخلہ Tony Burke نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ کھلاڑیوں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ آسٹریلیا میں محفوظ ہیں اور یہاں قیام کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی پولیس نے ان خواتین کو حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
جن کھلاڑیوں کو پناہ دی گئی ہے ان میں ٹیم کی کپتان Zahra Ghanbari، مڈفیلڈرز Fatemeh Pasandideh، Zahra Sarbali Alishah، Mona Hamoudi اور ڈیفنڈر Atifeh Ramazani Zadeh شامل ہیں۔
یہ کھلاڑی AFC Women’s Asian Cup 2026 میں شرکت کے سلسلے میں آسٹریلیا گئی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے قبل قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ان کی سلامتی سے متعلق خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
آسٹریلوی وزیر اعظم Anthony Albanese نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پانچ کھلاڑیوں نے مدد کی درخواست کی تھی جس کے بعد انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹیم کی دیگر کھلاڑی بھی آسٹریلیا میں رہنا چاہیں تو حکومت انہیں بھی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ان کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں خدشہ تھا کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتاری یا دیگر سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑی سیاسی کارکن نہیں بلکہ صرف اپنی سلامتی کے پیش نظر پناہ کی درخواست کر رہی تھیں۔
