کوبن ہیگن – ڈنمارک کی سپریم کورٹ آج سے چار انسانی تنظیموں کے دائر کردہ مقدمے کی سماعت شروع کر رہی ہے، جس میں الزام ہے کہ ڈنمارک نے اسرائیل کو ہتھیار برآمد کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔
مقدمہ دائر کرنے والی تنظیموں میں فلسطینی انسانی حقوق کی انجمن الحق، ایکشن ایڈ ڈنمارک، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آکسفیم ڈنمارک شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک نے F-35 جیٹ طیاروں کے پرزے اسرائیل کو فروخت کر کے بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی کی، جبکہ اسرائیل پر غزہ میں "جنگی جرائم اور نسل کشی” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے یہ الزامات سختی سے مسترد کر دیے ہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت صرف یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا تنظیمیں عدالت میں ڈنمارک کے اسلحے کی فروخت کی قانونی حیثیت پر مقدمہ چلانے کی اہل ہیں یا نہیں۔ اپریل 2025 میں ایسٹرن ہائی کورٹ نے مقدمہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدعی براہ راست اور ٹھوس نقصان کی بنیاد پر عدالت میں کارروائی کا حق نہیں رکھتے۔
اگر سپریم کورٹ انسانی تنظیموں کے حق میں فیصلہ کرتی ہے، تو وہ ڈنمارک کی اسرائیل کو اسلحے کی برآمد کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر سکیں گی۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ کا موقف ہے کہ اسلحے کی برآمد یورپی یونین اور بین الاقوامی قانون کے تحت قانونی ہے۔
ڈنمارک سپریم کورٹ تقریباً ایک ہفتے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔
