قومی اسمبلی کے اجلاس میں کئی ترمیمی بل کثرت رائے ، عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے قرار داد متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی کے اجلاس میں کئی ترمیمی بل کثرت رائے سے جبکہ عالمی یوم خواتین کی مناسبت سےقرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ قرارداد میں کہا گیا ایوان خواتین کی سماجی،معاشی اور تمام شعبوں میں خدمات کوسراہتا ہے،اور ان کے  حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ 

ڈپٹی اسپیکرسید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں ایران میں پاکستانی شہریوں کےتحفظ سلامتی سےمتعلق توجہ دلاؤنوٹس پر ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے جواب دیا  اور  کہا اس وقت دو ہزارسےزائد طلباء ایران سے واپس لائے جا چکے ، تین ماہ سےمختلف شہروں میں وہاں ہمارا اسٹاف ریڈ الرٹ ہے،شہریوں اور طلبا سے رابطہ کرنےمیں کوئی دشواری نہیں تھی،کسی طرح کا کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، طلبا کی اکثریت واپس پہنچ چکی ہے۔

ایوان میں جےیوآئی رکن نعیمہ کشور نے بلوں میں ترامیم پیش کرنےکی اجازت نہ دینےپراحتجاج کیا ، اسمبلی نے صوبائی موٹروہیکلز ترمیمی بل اکثریت سے منظور کرلیا جس میں اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں ، اسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن سہولت کاری ترمیمی بل اور لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ بل بھی منظور کرلیا گیا ، شازیہ مری نےسول ملازمین ترمیمی بل پیش کردیا جس پر ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نےمخالفت کرتے ہوئے کہا ایسے قوانین کی وجہ سے سندھ کا بیڑا غرق ہوا، نوید قمر نے خواجہ اظہار الحسن کو منانے کی کوشش کی تو محمود اچکزئی نے مداخلت کی ،جس پر ڈپٹی اسپیکر نے بل قائمہ کمیٹی میں بھیج دیا ۔

نصاب تعلیم اوردرست کتب سےمتعلق ترمیمی بل کثرت رائےسےمنظور کرلیا گیا جبکہ آٹھ ماہ میں ریونیو کم ہونے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب وزیرپارلیمانی امورطارق فضل چوہدری کی درخواست پر مؤخر کردیا گیا ۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا  پاکستان مشکل میں ہے یہ حکومت ان حالات میں ملک نہیں چلا سکتی، قومی اسمبلی نےابھی تک ایران کیخلاف جارحیت پرکوئی قرارداد پاس نہیں کی ۔ اگرپارلیمنٹ کو اس طرح سے چلانا ہےتو ہم پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھیں گے ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے