طالبان کا اصل چہرہ بے نقاب: افغانستان غیر ملکی شہریوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار
افغانستان میں قائم Taliban حکومت کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے۔ امریکہ نے افغانستان کو باضابطہ طور پر "State Sponsor of Wrongful Detention” قرار دیتے ہوئے طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے کر سیاسی دباؤ اور سودے بازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس اقدام نے ایک بار پھر طالبان کے طرز حکمرانی اور ان کے بین الاقوامی وعدوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے واضح کیا کہ طالبان کی جانب سے قیدیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا دراصل وہی پرانا حربہ ہے جس کے ذریعے شدت پسند گروہ عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان اگر عالمی برادری میں کسی بھی قسم کی ساکھ چاہتے ہیں تو انہیں فوری طور پر غیر ملکی شہریوں کو رہا کرنا ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق افغانستان کے لیے سفری انتباہ کی سطح Level-4: Do Not Travel ہے، جو سب سے زیادہ خطرناک درجہ بندی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے اس دعوے کے باوجود کہ افغانستان سیاحوں کے لیے محفوظ ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں غیر ملکی شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی وقت انہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسی نہ صرف افغانستان کی عالمی تنہائی کو بڑھا رہی ہے بلکہ خود افغان عوام کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کی گرفتاریوں اور سخت پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری، سیاحت اور سفارتی تعلقات مزید متاثر ہو رہے ہیں جس کا براہ راست نقصان افغانستان کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان واقعی افغانستان کو عالمی برادری کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں طاقت اور دباؤ کی سیاست چھوڑ کر بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا، ورنہ افغانستان کی تنہائی اور بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
حوالہ:
یہ موقف امریکی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری کردہ بیانات میں سامنے آیا، جہاں امریکی محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری اور وزیر خارجہ Marco Rubio نے افغانستان کے بارے میں سخت سفری انتباہ اور طالبان کے خلاف مؤقف واضح کیا۔

