آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تین بحری جہازوں پر حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

Attacks on three ships in the Strait of Hormuz and Gulf of Oman further escalate tensions in the region

آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تین تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق میزائل یا پروجیکٹائل حملوں کا نشانہ بننے والے جہازوں میں تھائی لینڈ، جاپان اور مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار بحری جہاز شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک جہاز کو آبنائے ہرمز میں دبئی کے قریب نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرا جہاز عمان کے ساحل سے تقریباً 11 ناٹیکل میل دور حملے کا شکار ہوا۔ حملوں کے نتیجے میں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی تاہم بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 ایرانی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 100 امریکی فوجی زخمی ہو گئے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں العدیری ہیلی کاپٹر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایئر بیس شامل ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کو کویت کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے