پیرس – ترقی یافتہ معیشتوں پر مشتمل گروپ جی سیون کے رہنماؤں نے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات سے نمٹا جا سکے۔ بی بی سی کے مطابق فرانسیسی صدر Emmanuel Macron کی زیر صدارت جی سیون رہنماؤں کے اجلاس میں یہ امور زیر بحث آئے۔
صدر میکروں نے کینیڈا کے وزیرِاعظم Mark Carney سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے بارے میں گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے جی سیون شراکت داروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جی سیون ممالک ایران کے ساتھ امریکا و اسرائیل کے تنازع کے بعد بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی عالمی فراہمی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم وزرائے خزانہ اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے اجلاس میں خام تیل کے سٹریٹجک ذخائر جاری کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
ورچوئل اجلاس میں IEA کے سربراہ Fatih Birol نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے نقل و حمل کے چیلنجز کے علاوہ تیل کی پیداوار میں کمی نے مارکیٹ کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ آئی ای اے کے رکن ممالک کے پاس اس وقت ہنگامی تیل کا 1.2 بلین بیرل سے زیادہ ذخیرہ موجود ہے، جس میں 600 ملین بیرل صنعتی سٹاک بھی شامل ہے۔
فرانسیسی وزیر خزانہ Roland Lescure نے اجلاس کے بعد کہا کہ ابھی ہنگامی ذخائر جاری کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم اگر یہ ذخائر جاری کیے گئے تو یہ 2022 کے بعد پہلی بار ہوگا۔
جی سیون گروپ میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ، امریکا اور یورپی یونین شامل ہیں۔
