لاہور – Pakistan Cricket Board کی قومی سلیکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم شائقین کو بہترین کرکٹ پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور مستقبل کے فیصلے کوچ اور ٹیم مینجمنٹ سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔
سلیکشن کمیٹی کے ارکان Aaqib Javed، Misbah-ul-Haq، Sarfaraz Ahmed اور Asad Shafiq نے Gaddafi Stadium میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی بہتری اور مستقبل کی منصوبہ بندی کوچ کے ساتھ مشاورت سے کی جائے گی۔
اس موقع پر عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ بے حد مقبول کھیل ہے، تاہم حالیہ ICC Cricket World Cup میں ٹیم کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں رہے۔ ان کے مطابق ٹیم سے امید تھی کہ وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرے گی، مگر کھلاڑی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔
عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ٹیم میں استحکام بھی ضروری ہے اور ہر چھ ماہ بعد بڑی تعداد میں نئے کھلاڑی شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے سلیکشن کے فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ Aaqib Javed نے کہا ہے کہ ٹیم کے انتخاب سمیت اہم فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں اور اس عمل میں کوچ، کپتان اور سلیکشن کمیٹی سب شریک ہوتے ہیں۔
سلیکشن کمیٹی کی نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ Pakistan Cricket Board میں سلیکشن کے وقت کوچ کو بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ بہترین ٹیم منتخب کی جا سکے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے آسٹریلیا میں ون ڈے سیریز جیتی تھی اور وہ خود بھی تین سے چار ماہ تک کوچنگ کے فرائض انجام دیتے رہے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ گزشتہ ICC Cricket World Cup میں ٹیم سے جس کارکردگی کی توقع تھی وہ سامنے نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچنے کی امید تھی لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ National T20 Cup ورلڈ کپ سے پہلے ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کی فارم بہتر انداز میں جانچی جا سکے۔ اس وقت سلیکٹرز اس ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عاقب جاوید کے مطابق پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کے مختلف فارمیٹس ہیں، اس لیے کسی ایک کارکردگی کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کو فوری ٹیم میں شامل یا باہر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میچ کی کنڈیشنز کے مطابق کوچ اور کپتان ہی پلیئنگ الیون کا انتخاب کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ Fakhar Zaman کی فٹنس کے حوالے سے تحقیقات کروائی جا رہی ہیں اور سلیکٹرز کو مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہیے کہ کون سا کھلاڑی فٹ ہے اور کون نہیں، خاص طور پر جب وہ ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہو۔
