نئی دہلی – بھارت کے خلائی پروگرام کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب PSLV-C62 مشن تکنیکی خرابی کے باعث ناکام ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق راکٹ نے Satish Dhawan Space Centre سے پرواز کی، تاہم تقریباً آٹھ منٹ بعد نظام میں خرابی پیدا ہو گئی جس کے نتیجے میں زمین کے مشاہدے کے لیے تیار کیا گیا مرکزی سیٹلائٹ EOS-N1 (Anvesha) سمیت 16 سیٹلائٹس تباہ ہو گئے۔
یہ لانچ Indian Space Research Organisation (اسرو) کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل پروگرام کی حالیہ برسوں میں ایک اور بڑی ناکامی قرار دی جا رہی ہے۔ 2021 کے بعد یہ اس راکٹ پروگرام کی پانچویں اور گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دوسری بڑی ناکامی ہے، جس کے بعد ادارے کی تکنیکی صلاحیت اور خلائی پروگرام کو تیزی سے تجارتی بنانے کی حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اس سے قبل مئی 2025 میں EOS-09 مدار تک نہ پہنچ سکا تھا کیونکہ تیسرے مرحلے کے سالڈ موٹر میں دباؤ کم ہو گیا تھا۔ اسی طرح جنوری میں نیویگیشن سیٹلائٹ NVS-02 بھی انجن کے والو کی خرابی کے باعث مطلوبہ مدار تک نہیں پہنچ سکا تھا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ ناکامیوں کے نتیجے میں بھارت کو مالی اور دفاعی دونوں سطحوں پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف PSLV-C61 اور PSLV-C62 کی ناکامی سے تقریباً 1100 سے 1250 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہوا، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں پانچ ناکامیوں کے باعث مجموعی نقصان 2200 سے 2800 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ PSLV راکٹ تین دہائیوں تک بھارت کے قابلِ اعتماد خلائی لانچ سسٹم کے طور پر جانا جاتا تھا، تاہم حالیہ مسلسل ناکامیوں کے بعد اس پروگرام کو تحقیقات کے لیے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان مشکلات کے باعث عالمی چھوٹے سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں بھارت کا حصہ، جو 2017 میں تقریباً 35 فیصد تھا، 2024-25 تک نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔
