ویژن پوائنٹ فیکٹ چیک: کابل میں حالیہ حملے کے حوالے سے سامنے آنے والے متضاد دعوؤں کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔ بعض ذرائع کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ حملے میں ایک سول ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ایک تفصیلی حقائق کی جانچ پیش کی ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق طالبان ذرائع نے جس مقام کو "امید ہسپتال” قرار دیا، وہ اصل حملے کی جگہ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ دراصل کیمپ فینکس نامی ایک فوجی تنصیب تھی، جہاں مبینہ طور پر ہتھیار اور گولہ بارود موجود تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی مخصوص فوجی ہدف کے خلاف درستگی کے ساتھ کی گئی۔
وزارت کی جانب سے پیش کیے گئے بصری شواہد میں بھی دونوں مقامات کے درمیان واضح فرق دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق امید ہسپتال ایک کثیر المنزلہ شہری عمارت ہے، جبکہ نشانہ بننے والی جگہ کنٹینرز پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ ہے، جو فوجی استعمال سے مطابقت رکھتا ہے۔
حکام نے طالبان کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ زیر بحث مقام منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی مرکز تھا۔ ان کے مطابق یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسی سہولت کسی بھاری قلعہ بند فوجی کمپاؤنڈ کے اندر یا اس کے قریب کیسے قائم ہو سکتی ہے جہاں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد موجود ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر تنازعات کے دوران غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خطرے کو اجاگر کیا ہے، جہاں غیر تصدیق شدہ مواد تیزی سے رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ حساس معاملات میں آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہایت ضروری ہے۔
دوسری جانب، آزاد ذرائع سے اس واقعے کی مکمل اور غیر جانبدار تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی، جس کے باعث صورتحال غیر واضح ہے۔
حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے فوجی آپریشنز میں شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہے اور صرف تصدیق شدہ عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اپیل کی ہے تاکہ غیر مصدقہ معلومات کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
