بالی ووڈ کے معروف اداکار Nawazuddin Siddiqui نے فلم انڈسٹری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم ساز حقیقت سے آنکھیں چرا کر جھوٹ پر مبنی فلمیں بنا رہے ہیں اور معاشرے کو مثبت سمت دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلم سازوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کو غلط سمت میں نہ لے جائیں، کیونکہ سچائی بہت اہم ہے اور لوگ حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بالی ووڈ میں بننے والی فلموں کے پیچھے کی حقیقت سے لوگ بخوبی واقف ہوتے ہیں، چاہے اسے کھل کر بیان نہ بھی کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا، "ہم اپنی فلموں میں جھوٹ بول رہے ہیں، ہم جعلی فلمیں بنا رہے ہیں اور ہر کوئی اس بات کو جانتا ہے۔”
اداکار نے پاکستانی ادیب Saadat Hasan Manto کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کے کردار کو نبھانے کے لیے منٹو کے کام کا گہرائی سے مطالعہ کیا، اور ان کی بے باک اور حقیقت پسندانہ تحریر نے انہیں متاثر کیا۔
نوازالدین صدیقی نے نوجوان اداکاروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ محنت، تربیت اور مسلسل مشق کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ قسمت پر انحصار کریں۔ ان کے مطابق "اتنی محنت کریں کہ آپ کو نظر انداز کرنا ناممکن ہو جائے”، کیونکہ یہی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔
