ریاض میں جاری اہم علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے دوران عرب اور اسلامی ممالک نے ایران کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی تیاری تیز کر دی ہے۔ وزرائے خارجہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیجی ممالک پر حملوں کے تناظر میں اہم فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کو حالیہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل قانونی اور مالی ذمہ دار قرار دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اس کے ساتھ متاثرہ ممالک کے بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی کے حق کی بھی بھرپور حمایت متوقع ہے۔
علاقائی سلامتی اور مشترکہ حکمت عملی
اجلاس کا بنیادی مقصد خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ ان کی سرزمین، شہری علاقوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا:
- بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے
- اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے
- حسنِ جوار کے اصولوں کے برخلاف ہے
خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک نے واضح کیا ہے کہ علاقائی سلامتی ناقابلِ تقسیم ہے اور کسی بھی جارحیت کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔
دفاعی کارروائیاں: میزائل اور ڈرون حملے ناکام
حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک نے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے:
- سعودی عرب: ریاض اور مشرقی علاقوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کیا گیا
- کویت: کئی میزائل اور درجنوں ڈرونز مار گرائے گئے، معمولی زخمیوں کی اطلاعات
- متحدہ عرب امارات: سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ
- بحرین: درجنوں اہداف کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا
- قطر: مسلسل میزائل حملوں کے پیش نظر ہائی الرٹ برقرار
یہ دفاعی اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ خطہ ایک وسیع تر عسکری تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں فضائی دفاعی نظام کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
بڑھتی کشیدگی اور عالمی تشویش
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے علاقائی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ توانائی تنصیبات، شہری انفراسٹرکچر اور اہم اقتصادی مراکز کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، حملوں کے خاتمے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
