ایف بی آر نے نے کسٹمز رولز 2001 میں ترامیم کا مسودہ جاری کر دیا۔ برآمد کنندگان کے لیے ڈیوٹی فری خام مال اور انٹرنیشنل ٹرانس شپمنٹ قوانین میں شفافیت اور احتساب کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق یہ ترامیم برآمد کنندگان کو ڈیوٹی فری خام مال درآمد کر کے اشیاء تیار اور برآمد کرنے کی سہولت فراہم کریں گی۔ مستفید ہونے والے برآمد کنندگان کو چھ ماہ بعد اپنی رپورٹ جمع کرانا ہوگی، جس میں درآمد شدہ خام مال، برآمد شدہ سامان، مقامی فروخت اور ویلیو ایڈیشن کی مجموعی مقدار شامل ہوگی۔
ضائع ہونے والے خام مال اور اس کے ڈسپوزل کی تفصیلات بھی فراہم کرنا لازمی ہوگی، یہ اسٹیٹمنٹ چھ ماہ ختم ہونے کے تیس دن کے اندر جمع کرانی ہوگی۔
اسی طرح پاکستان کے انٹرنیشنل ٹرانس شپمنٹ رولز میں بھی ترامیم کی گئی ہیں تاکہ ملک کی بندرگاہوں کو عالمی سطح پر ٹرانس شپمنٹ ہب بنایا جا سکے۔ اس کے تحت بین الاقوامی کارگو کو اسٹور، ہینڈل اور ٹرانسفر کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ غیر ملکی سامان کو ذخیرہ کر کے دیگر ممالک بھیجا جا سکے گا۔
قوانین فضائی اور سمندری راستوں، بحری جہازوں، کنٹینرز اور ایئرشپمنٹ پر بھی لاگو ہوں گے۔کارگو سامان کی مکمل اسکیننگ اور فزیکل چیک کی اجازت دی گئی ہے، چوری، مس ڈکلیریشن یا نقصان کی صورت میں جرمانہ وصول کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والی شپنگ لائن یا ایئرلائن کمپنیاں ڈیوٹی ٹیکس ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔
