Dubai سے موصول رپورٹ کے مطابق Abbas Araghchi نے Turkey، Egypt اور Pakistan کے وزرائے خارجہ کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔
علاقائی ہم آہنگی پر زور
ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران:
- خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو خطرناک قرار دیا
- علاقائی ممالک کے درمیان چوکسی اور قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا
- بیرونی حملوں کو خطے کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا
ایرانی مؤقف کے مطابق، حالیہ کشیدگی کا سبب United States اور Israel کی جانب سے ایرانی تنصیبات پر حملے ہیں، جنہیں تہران نے “عدم استحکام کو بڑھانے کی کوشش” قرار دیا۔
توانائی تنصیبات پر حملے اور ردعمل
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق:
- South Pars Gas Field اور اسالویہ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا
- اس کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے میں امریکی مفادات سے جڑی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا
ان اہداف میں Ras Laffan Industrial City بھی شامل ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی کمپلیکسز میں شمار ہوتا ہے۔
جنگ کے “نئے مرحلے” کا اعلان
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان Ebrahim Zolfaghari نے کہا کہ:
- توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد جنگ “نئے مرحلے” میں داخل ہو چکی ہے
- اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو ردعمل زیادہ شدید اور وسیع ہوگا
- خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات کو مسلسل نشانہ بنایا جا سکتا ہے
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب:
- خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات خطرے کی زد میں ہیں
- عالمی توانائی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے
- بڑی عالمی طاقتیں بالواسطہ یا براہ راست اس تنازع کا حصہ بنتی جا رہی ہیں
