واشنگٹن میں ایران سے متعلق پالیسی پر داخلی اختلافات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں Federal Bureau of Investigation نے سابق امریکی انسداد دہشت گردی عہدیدار Joe Kent کے خلاف مبینہ خفیہ معلومات کے افشا کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینٹ نے حال ہی میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
استعفیٰ کے بعد نیا تنازع
رپورٹس کے مطابق:
- کینٹ بطور ڈائریکٹر National Counterterrorism Center خدمات انجام دے رہے تھے
- استعفیٰ کے فوراً بعد ان پر خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع ہو گئیں
- ایف بی آئی نے باضابطہ طور پر تحقیقات کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے
ایران جنگ پر سخت مؤقف
اپنے پہلے انٹرویو میں، جو انہوں نے Tucker Carlson کو دیا، کینٹ نے دعویٰ کیا کہ:
- ایران کے خلاف حملے سے قبل کوئی مضبوط داخلی بحث نہیں ہوئی
- اہم پالیسی سازوں کو صدر تک اپنی رائے پہنچانے کا موقع نہیں دیا گیا
- انٹیلیجنس میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا کہ Iran امریکا کے لیے فوری خطرہ تھا
ان کے مطابق:
“ایسی کوئی انٹیلیجنس نہیں تھی کہ ایران کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔”
اسرائیلی اثر و رسوخ کا الزام
کینٹ نے حساس دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ:
- Israel نے امریکی پالیسی پر اثر انداز ہو کر کارروائی کی راہ ہموار کی
- بعض اسرائیلی حکام نے ایسی معلومات فراہم کیں جو باضابطہ انٹیلیجنس چینلز سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے اسٹریٹجک مقاصد مختلف ہیں، خاص طور پر:
- اسرائیل حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے
- جبکہ امریکا کے اہداف واضح نہیں
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
Donald Trump نے کینٹ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے:
- انہیں “سکیورٹی کے حوالے سے کمزور” قرار دیا
- ایران کو ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا
دوسری جانب Tulsi Gabbard نے کہا کہ:
- ایران سے متعلق خطرے کا حتمی تعین صدر کا اختیار ہے
سیاسی و ادارہ جاتی اثرات
یہ معاملہ کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے:
1. انٹیلیجنس vs پالیسی تضاد
- انٹیلیجنس اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان ایران کے خطرے پر واضح اختلافات موجود ہیں
2. فیصلہ سازی کا محدود دائرہ
- کینٹ کے مطابق، پالیسی سازی ایک محدود اندرونی حلقے تک محدود رہی
3. عالمی اتحادیوں کا کردار
- اسرائیل کے اثر و رسوخ سے متعلق بیانیہ ایک حساس اور متنازع موضوع بن چکا ہے
