ایک مخصوص سیاسی ٹولے کی جانب سے مذہب کو بنیاد بنا ک فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات کے برعکس حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ ملاقاتوں اور بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات میں باہمی احترام، یکجہتی اور مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان خیرسگالی اور مشترکہ اقدار کو اجاگر کیا گیا، جسے بعد ازاں غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
اسی طرح فیلڈ مارشل کی اہلِ تشیع علماء سے ملاقات کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، حالانکہ اس نشست کا مقصد قومی ہم آہنگی اور بین المسالک اتحاد کو فروغ دینا تھا۔ اس نشست میں شریک افراد نے سوشل میڈیا پر چلنے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اصل پیغام کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں اتحاد، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کا احترام ضروری ہے اور اختلافات کو انتشار میں بدلنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
گفتگو میں آئین و قانون کی بالادستی پر بھی زور دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ کوئی بھی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں۔ آرٹیکل 5 کے تحت ریاست سے وفاداری کو ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
مزید برآں، مسلم امہ کے اتحاد اور بیرونی سازشوں کے خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ایسے عناصر کے عزائم کو ناکام بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال کرنا اور جھوٹا بیانیہ پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات سے محتاط رہیں اور صرف مستند ذرائع پر اعتماد کریں۔
