عید کے روز مسجد اقصیٰ میں کشیدگی، اسرائیلی فورسز کی کارروائی، متعدد فلسطینی نماز عید سے محروم

Tensions at Al-Aqsa Mosque on Eid, Israeli forces' action, many Palestinians deprived of worship

عید کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا، جس پر علاقے میں تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

Al-Aqsa Mosque کے احاطے میں عید کی نماز کے دوران اسرائیلی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی اور متعدد فلسطینیوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد متاثر ہوئے اور نمازیوں کو عبادت سے روک دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کو عارضی طور پر بند کر دیا اور وہاں داخلے پر پابندیاں سخت کر دیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینی عید کی نماز ادا کرنے سے محروم رہ گئے۔ کئی افراد کو مجبوراً مسجد کے باہر سڑکوں اور قریبی علاقوں میں نماز ادا کرنا پڑی۔

مقامی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدس مقامات پر اس نوعیت کی کشیدگی خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے اور کسی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق عبادت کے مواقع پر پابندیاں اور طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔

اسی دوران لبنان میں بھی کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں عید کے روز اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ رپورٹس کے مطابق بعض حملوں میں صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مجموعی صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مذہبی مواقع پر بھی امن کی فضا برقرار رکھنے میں مشکلات درپیش ہیں اور مختلف محاذوں پر تنازع کی شدت کم ہونے کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے