امریکا اور اسرائیل کا نطنز جوہری تنصیب پر حملہ، تابکاری کا خطرہ رپورٹ نہیں ہوا

US and Israel attack Natanz nuclear facility, no radiation threat reported

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے تسلسل کے دوران United States اور Israel نے ایران کی اہم جوہری تنصیب Natanz Nuclear Facility کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی ایران میں واقع نطنز یورینیم افزودگی مرکز پر آج حملہ کیا گیا۔ یہ تنصیب Tehran اور Isfahan کے درمیان واقع ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کا ایک کلیدی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری اخراج (radiation leak) کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ قریبی رہائشی علاقوں کے لیے بھی فوری طور پر کوئی خطرہ رپورٹ نہیں کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ کے اوائل میں International Atomic Energy Agency (آئی اے ای اے) نے بتایا تھا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نطنز جیسے حساس جوہری مرکز کو نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، تاہم فوری طور پر تابکاری کے خطرات نہ ہونے کی اطلاعات نے انسانی سطح پر بڑے بحران کے خدشات کو وقتی طور پر کم کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے