Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ Iran کسی عارضی جنگ بندی کے بجائے موجودہ تنازع کا مکمل اور مستقل خاتمہ چاہتا ہے، اور اس کے لیے واضح بین الاقوامی ضمانتیں ضروری ہیں۔
جاپانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے Strait of Hormuz کو مکمل طور پر بند نہیں کیا، تاہم کچھ مخصوص جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، خصوصاً وہ جہاز جو امریکی عسکری سرگرمیوں سے منسلک ممالک کے زیرِ انتظام ہیں۔ ان کے مطابق دیگر ممالک کے تجارتی جہازوں کو، سکیورٹی خدشات کے باوجود، آمدورفت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران ان ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے جو تہران کے ساتھ سفارتی رابطے اور ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے ممالک کے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
جاپان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران جاپانی جہازوں کی آمدورفت میں سہولت دینے کے لیے تیار ہے، اور اس حوالے سے عملی رابطے جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بحری راستوں اور توانائی کی ترسیل پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
جنگ بندی کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کئی ممالک ثالثی اور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم United States کی جانب سے اب تک سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ان کے مطابق ایران کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی معاہدے میں صرف جنگ روکنا کافی نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران مطالبہ کرتا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ حملے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے، اور حالیہ کشیدگی میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے تاکہ ایک پائیدار اور جامع امن معاہدہ ممکن ہو سکے۔
