قومی یکجہتی ناگزیر، علاقائی کشیدگی کے دوران دانشمندانہ حکمت عملی کی ضرورت

اسلام آباد: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر جاری تنازعات کے تناظر میں قومی یکجہتی اور دانشمندانہ طرزِ عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے مطابق پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے خلاف کارروائیاں بند کرے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بعض عناصر مسلم دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے بیرونی طاقتوں کے مفادات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک کی جانب سے تحمل اور ضبط کا مظاہرہ ایک سوچے سمجھے سفارتی توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔

حالیہ عالمی صورتحال، خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، نہ صرف خطے کے امن بلکہ پاکستان کی معیشت اور توانائی کے نظام پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث علاقائی عدم استحکام کے براہ راست اثرات ملک پر پڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب، سیکیورٹی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے داخلی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ماضی میں ایسے واقعات ملک میں بدامنی کا باعث بن چکے ہیں۔

حکومتی اور عسکری قیادت بھی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ بیرونی تنازعات کو داخلی انتشار کا سبب نہیں بننے دیا جائے گا، اور قومی سلامتی ہر صورت مقدم رہے گی۔

حتمی پیغام:
موجودہ نازک حالات میں قومی مفاد کو مقدم رکھنا، اتحاد کو فروغ دینا اور دانشمندانہ فیصلے کرنا ہی پاکستان کے استحکام اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے