دنیا کے 22 ممالک نے Strait of Hormuz میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کر دی ہے، جبکہ Iran کی جانب سے مبینہ بندش اور عسکری سرگرمیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
Bahrain اور United Arab Emirates سمیت 22 ممالک، جن میں بڑی تعداد یورپی ریاستوں کی ہے، نے ایک مشترکہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے “تمام مناسب اقدامات” میں تعاون کریں گے۔ بیان میں اس بات کا بھی خیرمقدم کیا گیا کہ مختلف ممالک پہلے ہی اس حوالے سے تیاری اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حالیہ حملے نہایت تشویشناک ہیں۔ ان ممالک نے ایرانی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز کی “عملی بندش” اور بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون و میزائل حملوں اور جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی۔
بیان جاری کرنے والے ممالک میں United Kingdom، France، Germany، Italy، Japan، Canada اور South Korea سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
ان ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی عسکری سرگرمیاں، دھمکیاں اور عالمی تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدامات بند کرے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی مکمل پاسداری کرے۔ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جہاز رانی کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس کی خلاف ورزی عالمی معیشت، خصوصاً کمزور ممالک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
ادھر International Energy Agency کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کو مارکیٹ میں لانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ ممالک کو امداد فراہم کرنے کے لیے United Nations اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi کا کہنا ہے کہ تہران نے تاحال آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) نے اس اہم گزرگاہ پر “مکمل کنٹرول” کا دعویٰ کیا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس خطے میں کشیدگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
