شاعرِ عوام حبیب جالب کا 98واں یومِ پیدائش آج منایا جا رہا ہے

عوامی شاعر حبیب جالب کی برسی، عظیم انقلابی شاعر کو دنیا سے رخصت ہوئے 33 برس بیت گئے

پاکستان کے عظیم انقلابی شاعر Habib Jalib کا 98واں یومِ پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ وہ 24 مارچ 1928ء کو Hoshiarpur (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پہلے Karachi اور بعد ازاں Lahore منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی ادبی اور انقلابی جدوجہد کو جلا بخشی۔

ابتدائی دور میں جالب معروف شاعر Jigar Moradabadi کے انداز میں رومانوی شاعری کیا کرتے تھے، تاہم معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی، جبر اور استحصال نے انہیں مزاحمتی شاعری کی طرف مائل کیا۔ ان کے کلام نے آمریت، ظلم اور سماجی ناانصافی کے خلاف ایک توانا آواز بن کر عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔

Habib Jalib نے سیاسی میدان میں بھی بھرپور کردار ادا کیا اور فوجی حکمران Ayub Khan کے خلاف محترمہ Fatima Jinnah کی صدارتی مہم میں سرگرم حصہ لیا۔ ان کی جرات مندانہ شاعری کو عظیم شاعر Faiz Ahmed Faiz نے بھی سراہا اور انہیں “عوامی شاعر” قرار دیا۔

ان کے شعری مجموعوں میں برگِ آوارہ، سرِ مقتل، عہدِ ستم، حرفِ حق، ذکر بہتے خون کا، عہدِ سزا، گنبدِ بے در، گوشے میں قفس کے، حرفِ سردار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں، جو ان کے فکری سفر اور جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔

ادب کے ساتھ ساتھ جالب نے فلمی دنیا میں بھی اپنی پہچان بنائی اور کئی فلموں کے لیے نغمات تحریر کیے، جن میں فلم زر قا کے گیت کو خاص طور پر عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔

Habib Jalib کی شاعری آج بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور وہ اپنے بے باک لہجے اور عوامی احساسات کی ترجمانی کے باعث ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے