ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف: ٹرمپ کے بیانات کو حکمتِ عملی قرار، مذاکرات پر محتاط رویہ برقرار

Iranian Foreign Minister thanks Pakistan for its support, praises its diplomatic role

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر Donald Trump کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد عالمی توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے بعض ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام سفارتی کوششوں کا رخ United States کی جانب ہونا چاہیے۔ ایرانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ موجودہ جنگ کا آغاز ایران نے نہیں کیا۔

ایک اور بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ حالیہ دنوں میں “دوست ممالک” کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ United States جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم ایران نے تاحال ان پیغامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران فی الحال مذاکرات کے حوالے سے محتاط حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے اور وہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے قبل اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے