پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اقتصادی جائزہ ورچوئل مذاکرات جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبے پر وفاقی حکومت سکھر اور حیدرآباد الیکٹرک کمپنیوں کی نجکاری کے لئے متحرک ہوگئی۔ مالیاتی مشیروں کو تمام اہداف وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
آئی ایم ایف نے سکھر اور حیدرآباد الیکٹرک کمپنیوں کی بروقت نج کاری کا مطالبہ کردیا، حکومت نے ڈسکوز کیلئے مقرر مالیاتی مشیران کو اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کردی، دونوں کمپنیوں کی نج کاری کے لیے مالیاتی مشیران نومبر 2025 میں مقرر کئے گئے تھے۔
سیپکو اور حیسکو کی نج کاری کے لیے مالیاتی مشیروں کو ابتدائی طور پر 4 اہداف دیئے گئے، مالیاتی مشیروں نے سیپکو اور حیسکو کی انسپکشن رپورٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرنا تھا، مالیاتی مشیران سیپکو اور حیسکو کی سیکٹورل ڈیو ڈیجیلنس رپورٹ بھی تیار کریں گے، مالیاتی مشیر دونوں الیکٹرک کمپنیوں کی مارکیٹ کی تفصیلی جائزہ رپورٹ بھی دیں گے۔
ذرائع کے مطابق سیپکو اور حیسکو کیلئے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے سے متعلق رپورٹ بھی تیار ہوگی، مالیاتی مشیران نے انسپکشن رپورٹ اور ڈیو ڈیجیلنس رپورٹ کے کئی مراحل طے کرلئے، مالیاتی مشیران کو حیسکو اور سپیکو سے متعلق اپنی رپورٹس جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
آئی ایم ایف نے سپیکو اور حیسکو کو فوری ازسرنو بحالی اور نجکاری کی ضرورت پر زور دیا ہے، وزارت خزانہ کے مطابق 2024 کے اختتام تک سپیکو کی نقصانات 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا، حیسکو کے نقصانات کا حجم 488 ارب روپے رہا۔
