امریکا کی سفارتکاری پر کسی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ایران

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baqaei نے کہا ہے کہ امریکا کی سفارتکاری پر کسی صورت اعتماد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جس طرح یہ جنگ شروع کی گئی، اس کے بعد مذاکرات کے دعوؤں کو قابلِ اعتبار سمجھنا مشکل ہے۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں Esmaeil Baqaei نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود صورتحال کے باعث مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ممالک جو ایران کے خلاف جارحیت میں شامل نہیں ہیں، وہ تہران سے رابطہ کر کے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا رہے گا، جسے خطے میں تجارتی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوجی ترجمان Abraham Zolfaghari نے کہا کہ امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کے دعوے کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اپنی ناکامی کو “معاہدہ” قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایران کے خلاف جارحیت کا خیال ترک نہیں کیا جاتا، تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوں گی اور نہ ہی خطے میں پرانا نظام بحال ہو سکے گا۔

ایران کے سابق سیکرٹری قومی سلامتی کونسل Ali Akbar Ahmadian نے کہا کہ ایران برسوں سے اس لمحے کی تیاری کر رہا تھا اور اب امریکی فوجی ایران کے “ہدف” کے قریب آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق تہران نے دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اس صورتحال کی تیاری کی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے