ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان Ismail Baqaei نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ ہیں اور تہران اسلام آباد کی نیت کو مثبت اور خیرخواہ سمجھتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے بیانات قابلِ اعتماد نہیں۔
ایک انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، بالخصوص پڑوسی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کے بقول پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور موجودہ صورتحال پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مختلف ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور تہران کو متعدد پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا اور امریکی و اسرائیلی دعوؤں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران کو امریکی سفارتکاری کا انتہائی منفی تجربہ رہا ہے اور ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی ایران پر حملے کیے گئے، جسے تہران سفارتکاری کی غداری سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 24 دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنی پالیسی پر قائم ہے اور موجودہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے سے گزرنے کے لیے مخصوص ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک ایران کے خلاف کارروائیوں میں شامل نہیں، وہ ایرانی حکام سے رابطے اور ہم آہنگی کے بعد محفوظ طریقے سے جہاز رانی جاری رکھ سکتے ہیں۔
بقائی نے خبردار کیا کہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے اور ایسی صورت میں ایرانی مسلح افواج فوری اور مؤثر جواب دیں گی۔ ان کے مطابق ایران پہلے ہی خطے میں امریکی مفادات اور اسرائیلی اہداف پر جوابی کارروائیاں کر چکا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایران واقعی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر رہا ہے یا نہیں، تاہم اس حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ میں تجاویز زیر غور ہیں۔
