افغانستان میں طالبان رجیم کی غیر جمہوری اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ طالبان حکومت کی آمرانہ اور پرتشدد پالیسیوں نے نہ صرف افغانستان میں داخلی بحران کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق، جرمنی نے برلن میں طالبان کے مقرر کردہ افغان سفارتی نمائندے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جرمنی طالبان حکومت کو افغانستان کی سرکاری حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور اب بھی افغانستان کی سابق حکومت کی طرف سے مقررناظم الامور کے ساتھ سرکاری رابطہ قائم رکھے ہوئے ہے۔
جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ سفارتی اصولوں کے مطابق کسی بھی نمائندے کی قبولیت کے لیے میزبان ملک کی منظوری ضروری ہے، جو افغان سفارتخانے کے معاملے میں نہیں ہوئی۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغان سفارتخانے میں کسی بھی قانونی تبدیلی یا نئی تقرری کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی کی جانب سے افغان نمائندے کو تسلیم نہ کرنا محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ طالبان حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عالمی عدم اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کا مستقبل عالمی تنہائی اور اقتصادی مشکلات کے دائرے میں گھرا ہوا ہے، اور طالبان کی شدت پسندی اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ طالبان حکومت کی غیر جمہوری اور سخت گیر پالیسیوں نے نہ صرف ملک کے اندرونی حالات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر افغانستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جس سے بین الاقوامی تعلقات میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
