بھارتی اخبار نے Supreme Court of India کے حالیہ فیصلے کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اقلیتوں کے بنیادی حقوق پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اقلیتوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھنے کے لیے متنازع قوانین کا سہارا لے رہی ہے۔
اخبار کے مطابق عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام یا عیسائیت اختیار کرتا ہے تو وہ شیڈولڈ کاسٹ (SC) کے درجے کا اہل نہیں رہے گا۔
بھارتی قوانین کے تحت فی الحال صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت سے تعلق رکھنے والے افراد ہی شیڈولڈ کاسٹ کے درجے کے لیے اہل قرار دیے جاتے ہیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک عیسائی پادری نے مذہب کی تبدیلی کے بعد پیش آنے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت میں مذہبی آزادی، سماجی انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
