ژوب کے حساس سرحدی علاقے میں پاک فوج نے گدوانہ انکلیو کا کنٹرول سنبھال کر دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک اہم اسٹریٹجک مرکز کو ختم کر دیا ہے، جو طویل عرصے سے دراندازی اور نقل و حرکت کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
تقریباً 32 مربع کلومیٹر پر محیط یہ علاقہ افغانستان سے پاکستان میں داخلے کا اہم گیٹ وے سمجھا جاتا تھا، جہاں سے دہشت گرد عناصر جنوبی بلوچستان کے سمبازہ سیکٹر اور خیبرپختونخوا کے علاقوں، خصوصاً درابن اور ڈیرہ اسماعیل خان تک پہنچتے تھے۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اس راستے کے ذریعے 130 سے زائد مسلح گروپس پاکستان میں داخل ہوئے، جن میں تقریباً 40 فیصد غیر مقامی اور سرحد پار سہولت کار شامل تھے۔ اسی کوریڈور کے ذریعے باغدیس کے ڈپٹی گورنر کے بیٹے کی دراندازی بھی ریکارڈ کی گئی، جو بعد ازاں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک کارروائی کے دوران مارا گیا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گدوانہ انکلیو ٹی ٹی پی کے لیے لانچ پیڈ، لاجسٹک مرکز اور دوبارہ منظم ہونے کا اہم پوائنٹ تھا۔ اس کے خاتمے سے نہ صرف دہشت گردوں کی آپریشنل صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے بلکہ ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پر بھی اثر پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے بعد سرحدی نگرانی میں تقریباً 60 فیصد اضافہ اور دراندازی کے واقعات میں 45 سے 50 فیصد تک کمی متوقع ہے، جبکہ دہشت گردوں کی اہم سپلائی لائنز بھی منقطع ہو چکی ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ انکلیو کی واپسی کو افغانستان کی جانب سے مؤثر بارڈر مینجمنٹ، ٹی ٹی پی کے خلاف عملی اقدامات اور سرحد پار سہولت کاری کے خاتمے سے مشروط کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سیکیورٹی خلا دوبارہ پیدا نہ ہوں۔
یہ پیش رفت نہ صرف ایک اہم عسکری کامیابی ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
