ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کو تقریباً ایک ماہ گزرنے کے بعد اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل علی رضا تنکسيری شہید ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں حملے کے ذریعے تنکسيری کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ 2018 سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ تھے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے منصوبوں کے مرکزی ذمہ دار تھے۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ یہ کمانڈر اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش کے منصوبوں میں ملوث تھا، جہاں سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ایڈمرل تنکسيری اپنی غیر روایتی حکمت عملی کے لیے جانے جاتے تھے، جس میں تیز رفتار کشتیاں، ساحلی میزائل اور ڈرون طیاروں کا استعمال شامل تھا۔ خلیج کے محدود جغرافیے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایران کی بحری برتری برقرار رکھنے میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔
تنکسيری کے بیانات میں اکثر امریکا کے لیے براہِ راست دھمکیاں شامل رہیں اور وہ بارہا کہتے رہے کہ ایران کسی بھی تنازع میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا نام ایرانی بحری صلاحیتوں کی ترقی، خاص طور پر ڈرونز اور بغیر عملے کے جہازوں کے شعبے میں بھی جڑا رہا۔
