اسلام آباد: پاکستان کی بڑی بندرگاہوں پر ٹرانس شپمنٹ صلاحیت، اسٹوریج اور آپریشنل سہولیات میں نمایاں بہتری لانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں، جن سے ملکی تجارت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ٹرانس شپمنٹ گنجائش 20 ہزار TEUs تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پورٹ قاسم اتھارٹی کی استعداد 12,500 TEUs اور گوادر پورٹ اتھارٹی کی صلاحیت 5,000 TEUs تک بڑھا دی گئی ہے۔
ٹرانس شپمنٹ قوانین میں ترمیم کے بعد آف ڈاک ٹرمینلز پر کارگو ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت اب 60 ہزار کنٹینرز تک اسٹوریج ممکن ہوگی۔
لاگت میں کمی کے لیے مختلف اداروں نے اہم فیصلے کیے ہیں۔ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) نے اسکیننگ چارجز میں 50 فیصد تک کمی کر دی ہے، جبکہ مکمل ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کے لیے یہ رعایت 75 فیصد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمینل آپریٹرز نے بھی فوری طور پر اسکیننگ چارجز میں 25 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔
مزید برآں، ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کے لیے پورٹ وارفج اخراجات میں 60 فیصد تک تاریخی رعایت دی جا رہی ہے، جس سے آپریشنل لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
نئے اور ترمیم شدہ قوانین کے تحت پاکستان میں "سی ٹو ایئر” ٹرانس شپمنٹ کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ بندرگاہوں پر رو-رو (RO-RO) اور بریک بلک کارگو کی ہینڈلنگ کی بھی مکمل منظوری دے دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کسٹمز کے ساتھ مشاورت سے اسکیننگ کے نئے پیرامیٹرز بھی متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ اسکیننگ کا عمل کم ہو اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے پاکستان خطے میں ایک اہم ٹرانس شپمنٹ ہب کے طور پر ابھر سکتا ہے اور بین الاقوامی تجارت میں مسابقتی برتری حاصل کر سکتا ہے۔
