ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے 3 بحری جہازوں کو وارننگ دے کر واپس بھیج دیا ہے، جس کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
ایرانی بحریہ کے مطابق آبنائے ہرمز "دشمن کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کے لیے بند” ہے، اور اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اب تک کم از کم 19 جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے جبکہ تقریباً 2000 جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز صرف تقریباً 24 میل چوڑی ہے اور زیادہ تر جہاز مخصوص تنگ راستوں سے گزرتے ہیں، جس کی وجہ سے متبادل راستہ اختیار کرنا آسان نہیں۔
مزید برآں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 1000 میل طویل ساحلی پٹی ہے، جہاں سے اینٹی شپ میزائلوں کے ذریعے دور سے حملہ کیا جا سکتا ہے، جس سے اس گزرگاہ کی سیکیورٹی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
