ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد دارالحکومت تہران میں ایٹم بم کے حصول کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے اندر طاقتور قدامت پسند اور سخت گیر حلقے اب کھل کر جوہری ہتھیار بنانے کے حق میں سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد ایران کے اندر سخت گیر سوچ رکھنے والے گروہوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے، جو ملک کی موجودہ جوہری پالیسی میں فوری اور بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں اور دباؤ کے مقابلے کے لیے ایٹم بم کا حصول ہی مؤثر دفاعی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
