ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے پاکستان کے وزیراعظم Shehbaz Sharif سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور ثالثی کے عمل میں اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس گفتگو میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، دشمنی اور تنازعات کے حل کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور ثالثی کے کردار کو اہم قرار دیا۔
پاکستانی وزیراعظم نے بھی گفتگو کے دوران ایران اور دیگر علاقائی و عالمی فریقین کے ساتھ پاکستان کے سفارتی رابطوں سے متعلق آگاہ کیا، جن کا مقصد خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال میں بات چیت، سفارت کاری اور باہمی اعتماد ہی ایسے بنیادی عناصر ہیں جن کے ذریعے خطے میں امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں مختلف تنازعات اور کشیدگی کے باعث خطے کی مجموعی صورتحال غیر یقینی ہے، اور مختلف ممالک سفارتی سطح پر بحران کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
