عالمی دہشتگردی کے ممتاز ماہر روہن گونارتنا نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے جدید دور کی سب سے محدود اور قدامت پسند حکومتوں میں شمار کیا ہے۔ ان کے مطابق طالبان نے اقتدار میں دیگر سیاسی قوتوں کو شامل کرنے سے انکار کیا ہے اور ایک جامع و نمائندہ حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث ملک کا سیاسی ڈھانچہ غیر متوازن ہو چکا ہے۔
پروفیسر گونارتنا نے خاص طور پر خواتین کے حقوق کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان دور میں خواتین کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیاں اس نظام کی پسماندگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
https://x.com/VisionPointPK/status/2038613855312777659?s=20
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو تعلیم، اظہارِ رائے اور معاشی سرگرمیوں سے دور رکھنا کسی بھی معاشرے کو ترقی نہیں بلکہ زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت کی موجودہ پالیسیاں ایک "ابتدائی اور پسماندہ طرز حکمرانی” کی عکاسی کرتی ہیں، جو جدید عالمی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش یہ سیاسی و سماجی بحران عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
