ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ کے بانی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے طالبان کے علاقائی روابط اور سیکیورٹی صورتحال پر اہم خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی تاریخ اس بات کی عکاس ہے کہ وہ اپنے قریبی اتحادیوں سے کبھی لاتعلقی اختیار نہیں کرتے۔
انہوں نے 2001 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکا نے فوجی کارروائی کی دھمکی دی، تب بھی طالبان نے القاعدہ سے تعلق ختم کرنے سے انکار کیا، جو ان کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔
مائیکل کوگل مین کے مطابق موجودہ حالات میں بھی یہی طرزِ عمل برقرار ہے، جہاں تحریک طالبان پاکستان کو طالبان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ اسی تعلق کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
https://x.com/VisionPointPK/status/2038613380639171025?s=20
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان سرحد پار دہشتگردی کے خلاف مزید سخت اقدامات، خصوصاً افغانستان کے اندر کارروائیاں کرتا ہے، تو اس سے طالبان کے ساتھ براہ راست کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی پیش رفت کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام میں اضافہ اور ممکنہ طور پر بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال نہ صرف ایک داخلی مسئلہ ہے بلکہ پورے خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محتاط اور متوازن حکمت عملی ناگزیر ہے۔
