یورپ کے بڑے ممالک نے Israel میں زیر غور سزائے موت کے متنازع بل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت کسی بھی اسرائیلی شہری کے خلاف پرتشدد اقدام کی صورت میں سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون Palestine کے شہریوں کے خلاف غیر متناسب طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے امتیازی سلوک کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بل انتہائی دائیں بازو کے قانون سازوں کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور نومبر میں اپنی پہلی ریڈنگ میں منظور ہو چکا ہے، جبکہ اب اسے حتمی منظوری کے لیے Knesset میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز United Kingdom، Germany، France اور Italy کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں اس بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اسرائیل میں سزائے موت کے فوری نفاذ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وہ اس بل کے ممکنہ امتیازی کردار پر خاص طور پر فکر مند ہیں، اور اس کی منظوری سے اسرائیل کے جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے وعدوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
