افغان سرزمین سے سرحد پار حملوں کی موجودگی طویل المدتی علاقائی امن کے لیے چیلنج بن سکتی ہے، عالمی جریدہ

The United Nations has imposed global sanctions on 22 Taliban leaders, calling them a serious threat to world peace.

بنگلہ دیشی جریدے The Muslim Times کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چار برسوں میں سفارتی کوششوں کے باوجود افغانستان میں موجود مبینہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ Taliban کے رویے اور عدم تعاون کے باعث ثالثی کی متعدد کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔

رپورٹ کے مطابق قطر اور ترکی کی جانب سے کی جانے والی ثالثی بھی کسی عملی پیشرفت کا باعث نہ بن سکی، جس کے بعد پاکستان کو اپنی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے اقدامات پر مجبور ہونا پڑا۔ اس میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ سرحد پار سرگرمیوں اور مبینہ طور پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی نے پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں کو متاثر کیا۔

مزید یہ کہ رپورٹ میں علاقائی تناظر کو سمجھنے کے لیے بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دیا گیا اور افغانستان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم یہ نکات مختلف تجزیاتی آرا کا حصہ ہیں اور ان پر مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے سرحد پار حملوں کی موجودگی طویل المدتی علاقائی امن کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ایسے حالات میں مسلح گروہوں کو سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول مل سکتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا چاہیے، جبکہ عالمی برادری بھی خطے میں استحکام کے لیے اس مسئلے کے حل پر زور دیتی رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے