مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی سنٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ 3500 امریکی میرینز اور سیلرز یو ایس ایس ٹریپولی پر تعینات ہو کر تربیتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا گیا کہ جہاز پر موجود اہلکار روزانہ کی بنیاد پر آپریشنل مشقیں اور جنگی تربیت حاصل کر رہے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جا سکے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ ایمفیبیئس اسالٹ شپ “امریکہ کلاس” سے تعلق رکھتا ہے اور 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے فلیگ شپ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس پر نہ صرف ہزاروں میرینز اور ملاح موجود ہیں بلکہ جدید جنگی ساز و سامان بھی نصب ہے۔
تقریباً 850 فٹ طویل اور 45 ہزار ٹن گنجائش رکھنے والا یہ جہاز ایک چھوٹے طیارہ بردار بحری جہاز کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پر F-35 سٹیلتھ لڑاکا طیارے، MV-22 Osprey ٹرانسپورٹ طیارے اور لینڈنگ کرافٹس بھی موجود ہیں، جو فوجیوں کو ساحلی علاقوں تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہ جہاز بنیادی طور پر جاپان کے ساسیبو نیول بیس پر تعینات رہتا ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے پیش نظر اسے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں اس وقت 2003 کے عراق جنگ کے بعد سب سے بڑی امریکی فوجی موجودگی دیکھی جا رہی ہے۔ اس وقت امریکا کے پاس خطے میں متعدد جنگی بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ دو بڑے طیارہ بردار بحری جہاز، یو ایس ایس ابراہام لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ بھی موجود ہیں۔
